سب کو اپنی طرح سمجھتی ہے
یار تو بھی نہ کتنی بھولی ہے
سرخ دیکھے ہیں میں نے لب اس کے
ایسا لگتا ہے خون پیتی ہے
لڑ رہی ہے وہ بے سبب مجھ سے
شکر ہے عشق اب بھی باقی ہے
اس کو سلجھانے میں لگے ہیں سب
شاعری زلف یا پہیلی ہے
کل تلک میں ہی جس کا سب کچھ تھا
آج وہ نام سے بھی چڑھتی ہے
جاتے جاتے وہ کہہ رہی تھی مجھے
کیا کروں یہ خدا کی مرضی ہے
موت تو سر پہ ہے کھڑی کب سے
پہلے اپنایا خار پھولوں کا
تب کہیں پایا پیار پھولوں کا
میں بھی گلشن سمیٹ لایا ہوں
اس نے مانگا تھا ہار پھولوں کا
یاد آتی ہے اس کی مت چھیڑو
ذکر یوں بار بار پھولوں کا
تجھ سے ملنے کے بعد یہ جانا
کون ہے دست کار پھولوں کا
پھیل جا بن کے خوشبو گلشن میں
چھین لے اختیار پھولوں کا
تیرے چھونے سے ہی تو چلتا ہے
آج کل روزگار پھولوں کا
دے کے اظہار عشق کرتے ہیں
اس سے سمجھو وقار پھولوں کا
جب سے عامر عطاؔ ہوا عاشق
چڑھ گیا ہے ادھار پھولوں کا