کسی کے ہجر کے سائے میں آ کھڑا ہوں میں

Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachi

کسی کے ہجر کے سائے میں آ کھڑا ہوں میں
عجیب دکھ ہے مرا چھاؤں میں جلا ہوں میں

ابھی تو سانس ہے باقی ذرا بچا ہوں میں
وہ کب تلک نہیں آئے گا دیکھتا ہوں میں

میں سر پہ گٹھری غموں کی اٹھائے پھرتا ہوں
اب اہل علم کہیں گے کہ سر پھرا ہوں میں

بس اس لئے کہ ترا حوصلہ نہ ماند پڑے
بس اس لئے ہی تو کہتا ہوں اب نیا ہوں میں

بس اس لئے کہ مجھے کہہ کے سوچنا نہ پڑے
ہمیشہ سوچ سمجھ کر ہی بولتا ہوں میں

اب اس سے قبل تعارف میں اپنا پیش کروں
حریف پہلے بتا دیتے ہیں عطاؔ ہوں میں
 

Rate it:
Views: 196
04 Apr, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL