پہلے سے ہی آندھی کا پتہ کیوں نہیں دیتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپہلے سے ہی آندھی کا پتہ کیوں نہیں دیتے
خوابیدہ پرندوں کو جگا کیوں نہیں دیتے
آنکھوں میں بٹھا رکھا ہے کچھ روز سے تم نے
اب دل میں مری جان جگہ کیوں نہیں دیتے
شاہوں سے تعلق تو بنا رکھا ہے سب نے
ہم جیسے فقیروں کو صدا کیوں نہیں دیتے
کیوں دیکھتے رہتے ہو یہ سانسوں کا تماشا
خاموش مسیحا ہو ،دوا کیوں نہیں دیتے
نادان ہو، غم خوار ہو، مخلص بھی ہو میرے
انمول محبت کی فضا کیوں نہیں دیتے
اس دور میں جینا تو مرا جرم ہوا ہے
ماضی سے مرا حال ملا کیوں نہیں دیتے
آنکھوں سے کئے جاتے ہیں باتیں بھی جو وشمہ
محفل میں کلام اپنا سنا کیوں نہیں دیتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






