پیار کرکے صنم مکر گیا ہے
Poet: اےبی شہزاد میلسی By: AB shahzad, Mailsiپیار کرکے صنم مکر گیا ہے
کہہ رہا ہے کہ اب سدھر گیا ہے
تیرے عاشق تھے ہم ،نہیں ہیں اب
وہ زمانہ تو اب گزر گیا ہے
بات ہوئی نہیں ہے مدت سے
وہ نہ جانے چلا کدھر گیا ہے
کال آئی نہ ملنے وہ آیا
ہوئی مدت ہے وہ بچھڑ گیا ہے
رہتا ہے زینہار دل میں وہ
میرے دل میں ہی وہ اتر گیا ہے
ایک آشوب ہر طرف یہی ہے
دیکھ کر مجھ کو وہ بپھر گیا ہے
آیا ملنے نہ پھر بھی میرا صنم
کوئی لے کر مری خبر گیا ہے
پہلے والا نہیں ہے وہ شہزاد
وہ ہو کمزوز اب شجر گیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






