پیار کی بارشوں کا مو سم ہے
Poet: Fazlul Hasan (Hasan Shamsi) By: F.H.SIDDIQUI, Lucknow ( India )پیار کی بارشوں کا مو سم ہے
کچھ حسیں خواہشوں کا مو سم ہے
رخ پہ بوندیں ، بدن پھوار سے نم
آئے لغزشوں کا موسم ہے
چھوڑئے عہد کہنہ کی باتیں
اب جواں کاوشوں کا مو سم ہے
پیار سے دیکھئے بچا کے نظر
چلبلی سازشوں کا مو سم ہے
مل گئے دل ، گلے بھی لگ جاؤ
یہ نہیں رنجشوں کا مو سم ہے
دیکھے ہیں کتنے پیار سے ہم کو
ان کی فرما ئشوں کا مو سم ہے
ڈھو نڈھ لو تم بھی چاند سا محبو ب
اے ‘ حسن ‘ مہو شوں کا موسم ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






