پیار کے طور بھی عجب ہوں گے
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمیرے غم خوار پاس جب ہوں گے
بے قراری کا ہی سبب ہوں گے
چوٹ کھائی تھی مدتوں پہلے
اس کے ظاہر نشان اب ہوں گے
ہیں گنہگار بھی ترے بندے
یہ بھی پیارے تجھے اے رب ہوں گے
خود کو بدلے گی جب عوام یہاں
اچھے حاکم نصیب تب ہوں گے
علم و تحقیق کی بدولت ہی
انکشافات ہم پہ سب ہوں گے
سب ہی غفلت کی نیند سوئے ہیں
جانے بیدار لوگ کب ہوں گے
کب تلک بولنے پہ پابندی
ایک دن تو آزاد لب ہوں گے
دشمنی کے ہی اب نہیں زاہد
پیار کے طور بھی عجب ہوں گے
نیا سال مبارک ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری طرف سے تمام دوستوں اور “ہماری ویب “کی ٹیم کو
نئے سال کی پیشگی مبارک باد قبول ہو ۔اللہ کرے ہم سب کے
لیے ٢٠١٤ بے انتہا خوشیاں لے کر آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساری دنیا میں
امن و امان ہو۔عالم اسلام اور پاکستان پر اللہ تعالیٰ خصوصی
فضل و کرم فرمائے ، آمین
اس بار یہ سوچ کر کچھ زیادہ ہی گیت غزلیں بھیج دی ہیں
کہ شایدکچھ عرصہ ویب پر حاضر نہ ہو سکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ
مخلص
زاہد
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






