پیاس لگتی ہے تو پانی بھی چُھپا دیتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiپیاس لگتی ہے تو پانی بھی چُھپا دیتا ہے
کیسا حاتِم ہے سَوالی کو دَغا دیتا ہے
وہ بھلا کِس کو سکھاۓ گا وَفاؤں کے ہُنر
جس کا معمول ہے ہر اِک کو جَفا دیتا ہے
کتنا سنگدِل ہے محبت میں وہی شخص کہ جو
بِچھڑے محبوب کو پل بھر میں بُھلا دیتا ہے
کیسے میں یار کے احسان بُھلا سکتا ہوں
جب بھی مِلتا ہے کوئ زخم نیا دیتا ہے
ایسا سنگدِل ہے کہ پڑ جاۓ ضرورت جو کبھی
میرے ہوتے ہوۓ غیروں کو صَدا دیتا ہے
یہ بھی سچ ہے کہ زمانے کا وہ سنگدِل ہے مگر
سامنے آۓ تو غَم سارے بُھلا دیتا ہے
اے طبیب اتنا نہ کر اپنی دواؤں پہ ناز
وہ مرا رَب ہے جو ہر اِک کو شَفا دیتا ہے
دَرحقیقت وہی انسان حُسینی ہے کہ جو
نوکِ نیزہ پہ بھی قاتِل کو دُعا دیتا ہے
اُس سے بڑھ کر کوئ رازِق نہیں ہو گا باقرؔ
وہ جو پتھر میں بھی کیڑوں کو غِذا دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






