پیغام۔۔۔۔۔۔
Poet: zeest.sun By: zeest.sun, u a eہمیں پیغام لکھنا ہے
تمھارے نام لکھنا ہے
ہمیں کچھ پوچھنا ہے
اور کچھ تم کو بتانا ہے
اگر رووٹھے ہو تم ہم سے
سنو؛ تم کو منانا ہے
ہمارا حال مت پوچھو
وہ اک لمبا فسانہ ہے
ابھی دل تو سنبھلنے دو
ہمیں وہ بھی سنانا ہے
ہاں اپنی خیریت لکھ دو
تمھارا حال کیسا ہے
وہ ہم سے مختلف ہے
یا ہمارے حال جیسا ہے
تمہیں بارش کی بوندیں دیکھ کر
کچھ یاد آتا ہے
برستا بھیگتا ساون تمہیں کیا
اب بھی بھا تا ہے
اگر ایسا ہے تو لکھ دو
ہمیں دو چار لفظوں میں
تمہیں ہم یاد کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






