پیمانے
Poet: Jamil Hashmi By: Jamil Hashmi, Rawalpindiیہ کیا کم ھے کہ ھم ان کے دیوانے ھیں
ورنہ بے سود عشق کے زمانے ھیں
غرور نہیں کہ ھیں ھم ان کے مشتاق
ھمارے دم سے زندہ عشق کے افسانے ھیں
نہ ھوتے ھم تو ناز ان کے اٹھاتا کون
ھم نے لکھے جو گل و بلبل کے ترانے ھیں
دی ھم نے تشبیہ ان کو گل و گلزار سے
کھلتی ھیں کلیاں بھنورے کے لیے ورنہ چمن ویرانے ھیں
کیوں کرتے ھیں نازوہ اپنے لب و رخسار پر
چھلکا ہے جو جام انہوں نے ھمارے لیے پیمانے ھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






