پیکر
Poet: Nazir Yaad Mianwali By: M. Muneer Mianwali, Mianwaliحُسن کو ہر پیکر میں پوجا جا سکتا ہے
تیرے بارے میں بھی سوچا جا سکتا ہے
خوشبو، رنگ، ہوائیں تیری مُٹھی میں ہیں
تو چاہے تو موسم بدلا جا سکتا ہے
چاہت کے دستور کو پہلے پڑھ لینا تھا
اس مسلک میں وعدہ توڑا جا سکتا ہے
اک بھی سکہ اپنے پاس نہیں ہے تو کیا
پھیلے ہاتھ پہ آنسو رکھا جا سکتا ہے
جانے کی ضد کرتے ہو تو جاؤ لیکن
ویسے کام یہ کل پر چھوڑا جا سکتا ہے
سب اچھا ہے، دل کا موسم اچھا ہو تو
رنگ کا کیا ہے کوئی بھی پہنا جا سکتا ہے
کام نذیر منافع بخش نہیں ہے پھر بھی
پیار میں سب سرمایہ ڈالا جا سکتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







