چاندنی رات تھی کل یاد وہ آیا کُھل کر
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiچاندنی رات تھی کل یاد وہ آیا کُھل کر
یاد آتے ہی مجھے اُس نے رُلایا کُھل کر
میرے محبوب نے چُھپ چُھپ کے نہ دیدار دیا
چہرہ جب اُس نے دِکھایا تو دِکھایا کُھل کر
پیار جب اُس نے کیا مجھ سے تو جی بھر کے کیا
جب ستایا بھی تو پھر اُس نے ستایا کُھل کر
چھوڑ تو مجھ کو گیا پر تھا وفادار بہت
میں نے یوں سینے سے غم اُس کا لگایا کُھل کر
اشک ٹھہرے نہ نظر آۓ کسی آنکھ میں پھر
اپنا غم جب بھی کبھی میں نے سُنایا کُھل کر
جب مری آنکھ میں آنسو نہ رہے رونے کو
دوستوں نے مجھے پھر خون رُلایا کُھل کر
رات تنہا جو ہُوا ٹوٹ کے رویا وہی شخص
جس نے ہر ایک کو محفل میں ہنسایا کُھل کر
آج باقرؔ مجھے پھر یاد اُسی کی آئ
پھر کسی نے مرا دل آج دُکھایا کُھل کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






