چاند بھی اپنی جوانی پہ تھا
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadچاند بھی اپنی جوانی پہ تھا
سارا ماحول بس کہانی پہ تھا
شوخ تھی میں ابھی کہ محبت کر لی
دل کا طوفان اپنی روانی پہ تھا
کھوئی رہی میں لاحاصل کی چاہ میں
دل میرا اسی نادانی پہ تھا
محبت کے صحرا میں بھٹکتی رہی
تپتی ریت پر پاؤں نشانی پہ تھا
اک وعدہ تیرا تھا اک وعدہ میرا تھا
میں وعدے پر قائم رہی تو بے ایمانی پہ تھا
تباہ کرنے والے کہیں سے آ تباہ کر جا
دل کا موسم اسی شادمانی پہ تھا
کاش میرا درد تیری دعا بن جاتا
نظروں کا تقاضا اسی حیرانی پہ تھا
خیر خواہ تو بہت ہیں میرے یہاں
لیکن درد ٹکا تیر نظر ثانی پہ تھا
میری تحریروں سے پگلھنا مت اب تم
میری رسوائی کا قصہ ہر کسی کی زبانی پہ تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






