چاند کی خواھش نادانی ھے ، چاند کبھی ھاتھ آیا ھے
Poet: Dr Qamar Siddiqui By: Dr Qamar Siddiqui, Kharianپیار کے موسم بیت چکے اب ھجر کا موسم آیا ھے
تنہا بیٹھا سوچ رہا ھوں ، کیا کھویا ، کیا پایا ھے
ھجر کی لمبی راتیں ھیں اور ایک سسکتا سایا ھے
تیری یادیں ، تیری باتیں ، اپنا کل سرمایا ھے
اھل ھوس کی اس دنیا میں کون کسی سے پیار کرے
کون کسی کا دردی ھو ، جب دین ایمان ہی مایا ھے
عقل پریشاں ۔ دیدہء حیراں کیسا موسم آیا ھے
انسانوں نے انسانوں کو انساں سے ڈسوایا ھے
چاک گریباں پاؤں میں چھالے ، ہاتھوں میں کشکول
تیری چاہت میں اے ساجن ھم نے یہی کچھ پایا ھے
میرا پاگل منوا مچلے لاکھہ اسے سمجھاؤں میں
چاند کی خواھش نادانی ھے ، چاند کبھی ھاتھ آیا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






