چاند کی گود میں کچھ چاند کے پیارے نکلے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاشام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے
چاند کی گود میں کچھ چاند کے پیارے نکلے
کس قدر آنکھ میں دہشت تھی نہ پوچھو مجھ سے
خواب کے پیڑ سے جب دھوپ کے آرے نکلے
میرے اس عشق کی بابت اسے معلوم ہے کیا
جس کی چاہت میں سبھی جرم ہمارے نکلے
ایک موہوم تمنا ہے ترا پیار ملے
شام کی زلف یہاں تو بھی سنوارے، نکلے
میں تو سمجھی تھی مرے پیار میں تر ہیں آنکھیں
یہ مگر اور ہی دریا کے کنارے نکلے
جب بھی دیکھا ہے تجھے وشمہ یہاں پہلی نظر
میری آنکھوں سے محبت کے ستارے نکلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






