چاند کے پیالے میں مہہ بھر دو
Poet: mubeen nisar By: mubeen nisar, Islamabadچاند کے پیالے میں مہہ بھر دو
پھر ستاروں کی انجمن میں عام کر دو
رات ڈھل رھی ہے آھستہ آھستہ
وقت کو تھام لو کسی طرح رام کر دو
ہوش میں جنوں کی شدت کہاں
گنوا دو ہوش عقل کا کام کر دو
کوئی بلائے نہ محفلء شوق سے مجھے
میں میں نہ رھوں بے نام کر دو
تیرے لہجے میں وہ شرینی ہے
آج لب کھولو اور دعوت عام کر دو
ساقی تیری نظر ہو تو جام بھر جائیں
کب سے منتظر ہوں یہ جام بھر دو
ایسی طویل خامشی میں جی گبھراتاہے میرا
میں بہک نہ جاؤں ذرا کلام کر دو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad








