چاند کے چہرے سے جیسے داغ ہٹایا نہیں جاتا
Poet: Malik S A Khaki By: Malik S A Khaki, RAWALPINDIچاند کے چہرے سے جیسے داغ ہٹایا نہیں جاتا
میرے دل سے تیرا نام مٹایا نہیں جاتا
میں ریت کے گھروندے بناتا رہا ساری زندگی
میں بھول گیا کہ ریت کو ہاتھ میں ٹھرایا نہیں جاتا
کیوں چلے آتے ہو روز میرے خوابوں میں
تم آؤ تو پھر ہم سے اک پل بھی سویا نہیں جاتا
آج تو ہم سے آنکھوں نے بھی شکایت کر دی
اب ہم سے اور اُس کے لیے رویا نہیں جاتا
میں تیرے آگے اپنا سر بھی جھکا لوں اے خاکی
مگر یہ سر خدا کے سوا جھکایا نہیں جاتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






