چاک اپنا ھی گریباں کر لیں
Poet: Zeeshan Noor Siddiqui (ZEESH) By: Zeeshan Noor Siddiqui, Karachiچاک اپنا ھی گریباں کر لیں
ساری دنیا کو بیاباں کر لیں
کریں کچھ ! ایسا کوئی کر نہ سکے
اپنے دشمن کو، اپنی جاں کر لیں
ان کے آنے کو جگہ ھے تھوڑی
دل کے در ہم بھی ذرا وا کر لیں
ھوۓ رخسار سرخ انگارہ
ان پہ زلفوں کو سائباں کر لیں
آپ چاھتے ھیں، ہم کو بھی ھم سا؟
وہ جو پوچھیں تو ھم بھی ہاں کر لیں
آزمائیں خدا کے ہی ڈھنگ سے
جاں وہ دینے لگیں تو ناں کر لیں
آ کے دھوکے میں، نہ ابلیس کے ذیش
ساری محنت کو رائیگاں کر لیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






