چاہتا ہوں
Poet: طلحہ احمد گُجر By: Talha Ahmed Gujjar, GujranwaLaمیں اِک گُمنام زندگی چاہتا ہُوں
دِھمی صُبح سحر شام چاہتا ہُوں
میں کُچھ ایساچاہتاہُوں
کہ وہ شہیدہو
میں اُسےاِن ہواؤں میں
اُڑتادیکھناچاہتا ہُوں
میں یہ نہیں چاہتا
کہ وہ ہروقت میرے ساتھ ہو
میں تو قُربان ہو جاؤں
مگر اُس کےہاتھ سے تکبیرچاہتاہُوں
میرےکھیت کو خراب کر دیں
کسی شام چاہے کِسی کہ جانور
میں دریا پہ غروبِ آفتاب کا منظر
ہرشام دیکھنا چاہتا ہُوں
اِک دِن غُصےمیں وہ بولی
تم آخِر کیا چاہتے ہو؟؟
میں ابھی چُپ تھاکہ وہ پِھر بولی
کیا مُجھے چاہتے ہو؟؟
ضروری نہیں محبت میں
محبُوب حاصِل ہو
لازِم ہے وہ الگ بِھی ہو
مگر اُسی سے چاہت ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






