چاہت نہ ہوئی، بھیک ہوئی
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہپیار سے ہاتھ لیا کھینچ تو تضحیک ہوئی
عشق میں رابطہ رہنے کی تو تصدیق ہوئی
تو اگر مجھ سے ہے وابستہ تو اظہار بھی کر
منہ سے مانگی ہوئی، چاہت نہ ہوئی، بھیک ہوئی
جب تلک نسخ میں تحریر تھی تہذیب رہی
اِس کی شاگرد بنی، اُس کی اتالیق ہوئی
خوش لباسی کا تو مقصود ہی تن ڈھانپنا ہے
کیسی پوشاک ہوئی، جسم پہ باریک ہوئی
وہ ہیں مسند پہ، جنہیں میں نے سکھایا چلنا
اپنی تقدیر کہ تاریک سے تاریک ہوئی
دیکھ کر مجھ کو وہ نفرت سے ہی منہ موڑ گئے
اپنی صورت یہ اُگل دان ہوئی، پِیک ہوئی
راز داروں نے ترے راز کیے فاش مگر
تجھ کو خوش فہمی کی بیماری رہی، ٹھیک ہوئی؟
کیا کہوں اس کو برے حال میں دیکھا ہے کہیں
وہ پڑی چوٹ کہ ہمّت مِری تفریق ہوئی
تو یہ کہتا ہے تجھے علمِ رجال آتا ہے
تو رشیدؔ اتنا بتا کیا تری تحقیق ہوئی؟
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






