بتاؤ

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

کیا ہوگی مرے خواب کی تعبیر بتاؤ
مشکیں ہے مرے پاؤں میں زنجیر، بتاؤ

یہ ملک مرا روز تنزّل کو رواں ہے
کیا اس کا علاج، اس کی ہے تعمیر، بتاؤ

کی جس کے لیے چوری وہی چور بتائے
کیا ہوگی بھلا ایسوں کی تعزیر بتاؤ

نظروں میں تمہاری جو نہیں ہے نہ سہی پر
اپنی تو ذرا شہر میں توقیر بتاؤ

کیا وجہ کہ ہم دولتِ ایماں سے تہی ہیں
مسلم ہوں سبھی ایک وہ تکبیر بتاؤ

دشمن کو گماں ہم میں تب و تاب نہیں
اب ان کو ذرا جوہرِ شمشیر بتاؤ

جتنا ہو رشیدؔ ان کو رویّے پہ ندامت
لوٹے ہیں کمانوں میں کبھی تیر، بتاؤ؟
 

Rate it:
Views: 342
29 Aug, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL