چاہت کے دیس کے نئے دستور ہوگئے
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHIچاہت کے دیس کے نئے دستور ہوگئے
محفل سجا کے خود یہاں مستور ہوگئے
مجنوں کی مثل تیرے جنوں کا شکار تھے
چاہت میں ڈوب کر تیری منصور ہوگئے
دیوانگی میں اور تو کچھ نہ ملا مگر
اتنا ہوا کہ ہم یہاں مشہور ہوگئے
اب تو نگاہ انکی تجلی کی ہے اسیر
حسن جمال یار میں محصور ہوگئے
ہم کو محبتیں نہ کبھی راس آسکیں
اس عاشقی کے زخم سے ہم چور ہوگئے
تیری وفا میں خانہ بدوشی ملی یہاں
برباد ہو کے ہم بڑے مجبور ہوگئے
انکی خوشی کا ہم سے کوئی ربط تو ہوا
دکھ میں وہ ہم کو دیکھ کر مسرور ہوگئے
بدحال دیکھ کر ہمیں ٹھکرا دیا گیا
ہم روشنی سے اب شب دیجور ہوگئے
جب سے خزاں گئی ہے ہمیں دیکھتے نہیں
رنگ بہار آتے ہی مغرور ہوگئے
مرسوم نہ دیا ہمیں مرسوم ہی کہا
انکے کرم سے جیتے جی مخفور ہوگئے
بھر کر نگاہ چہرہ بھی دیکھا نہیں کبھی
پھر بھی نگاہ ناز کے مقہور ہوگئے
انکو گریزاں دیکھ کر روتے ہوئے اشہر
ہم انکی رہ گزر سے بہت دور ہوگئے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






