چاہت کے گلستان میں اک شعر کہا تھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, malaysiaچاہت کے گلستان میں اک شعر کہا تھا
جب میں نے تری شان میں اک شعر کہا تھا
اتری ہیں خیالوں میں ترے پیار کی پریاں
یادوں کے پرستان میں اک شعر کہا تھا
اب آئینہ خانے میں ہیں تنہائی کے پہرے
شاید کبھی زندان میں اک شعر کہا تھا
اس دن سے کبھی بھیگے نہیں نین کنارے
ہاں میں نے بھی وجدان میں اک شعر کہا تھا
کیا ڈھونڈنے نکلے ہو مرے جسم کی شب میں
بس صبح کی مسکان میں اک شعر کہا تھا
اب تیرے سوا یاد نہیں پیار کے وعدے
وشمہ تری پہچان میں اک شعر کہا تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






