چاہت
Poet: arshad malik By: GURYA, karachiکہا اس نے دسمبر کو کبھی جلتے ہوئے دیکھا ہے
کہا میں نے چاہت کی حدوں کو چھو کے دیکھا ہے
کہا اس نے کہ پورا چاند کتنا خوبصورت ہے
کہا میں نے کہ میں اکثر تیری تصویر تکتا ہوں
کہا اس نے میرے ساتھی بنائیں برف کا اک گھر
کہا میں نے دسمبر میں ہوائیں گنگناتی ہیں
کہا اس نے دسمبر کی چمکتی چاندنی دیکھی
کہا میں نے کہ تیرے بعد میں نے کچھھ نہیں دیکھا
کہا اس نے دسمبر میں تیری یادیں ستاتی ہیں
کہا میں نے مری جاناں محبت کب بچھڑتی ہے
کہا اس نے تیری یادیں جلاتی ہیں مرا آنچل
کہا میں نے دسمبر کو چلو پھر سے بلاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






