چا ند نگر کا چا ند
Poet: maria kousar By: maria, kharianوہ اس دل میں بستا ھے
رھتا ھے بیچ آسمان کے
کہکشاں کے ساتھ میں
میر ے دل کے نگر سے اس نگر تک
مجھ میں اور اس میں ھیں
مدتوں کے ھیں فاصلے
مجھ سےبچھڑ کر وہ اس نگر گیا تو
وہ نگر چاند
نگر ھوا
کتنا حسین لگتا ھے بیچ آسمان کے کہکشاں کے ساتھ میں
رات کے مہکتے دلفریب شبنمی موسم میں
میں تو سو جاتی ھوں
وہ چلتا ھے
وہ جلتا ھے
وہ سلگتا ھے
ھم بچھڑے تو بکھرا کون
میں نھیں
چاند نگر کاچاند
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






