چراغ
Poet: Asad By: Asad, mpk یوں ہی امیدوں کے چراغ تم جلائے رکھنا
کسی کی یاد کو اپنے سینے سے لگائے رکھنا
پیار جگنو ھے جھلملائے گا ایک دن
اندھیرہ چھٹ جائے گا امید بندھائے رکھنا
یے بھی نشانی ھیں یار اپنی محبت کی
پھول کتابوں میں اپنی تم چھپائے رکھنا
اس کی مرضی ھے اگر یار جفا کرتا ھے
تم اپنا عہد وفا یوں ہی نبھائے رکھنا
عشق کی بھٹی میں جلنا یار آسان نہیں
جؤلہ بننے تک یوں ہی خود جلائے رکھنا
تھام رکھنا اپنے دل کو ذرا قابو سے
ذرا سی جدائی پر نہ آنسو بہائے رکھنا
ھے اسد نام کا بھوکا نہ کسی شہرت کا
تیرہ دیوانہ ھے بس دیوانہ اسے بنائے رکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






