چلا جائے گا
Poet: Irfan Sahil By: Irfan Sahil, Gujranwalaوہ تمہیں خواب دکھائے گا چلا جائے گا
خواہشیں دل میں جگائے گا چلا جائے گا
اک نہ اک روز بچھڑنا ہے سبھی نے آخر
بات اتنی سی سنائے گا چلا جائے گا
کچھ دنوں کے لیے تم اس کے صنم ٹھہرو گے
جب کوئی دوسرا بھائے گا چلا جائے گا
تم گلے ملنے کو ترسو گے مگر دور سے ہی
دیکھ کر ہاتھ ہلائے گا چلا جائے گا
عشق کی چوٹ ہے کیا درد کسے کہتے ہیں
بس یہی راز بتائے گا چلا جائے گا
وہ تو شہاز ہے رہنا ہے فضائوں میں اسے
لمحہ بھر دھرتی پہ آئے گا چلا جائے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






