چلا چل مہلت آرام کیا ہے
Poet: صبا اکبرآبادی By: عابد, Islamabadچلا چل مہلت آرام کیا ہے
مسافر اور تیرا کام کیا ہے
ہمارا واسطہ ہے ان کے ڈر سے
ہمیں سارے جہاں سے کام کیا ہے
تمہارا حسن تو ہے غیر فانی
ہمارے عشق کا انجام کیا ہے
خدا کا نام لینا چاہتا ہوں
مگر میرے خدا کا نام کیا ہے
سواد شام مے خانہ سلامت
بیاض جامۂ احرام کیا ہے
تم اپنے آئینے سے پوچھ لیتے
ہمارے عشق پر الزام کیا ہے
ہمیں خود راستہ چلنا نہ آیا
فراز و پست پر الزام کیا ہے
سنو اے آشیاں کے خشک تنکو
بہار باغ کا پیغام کیا ہے
خرد کے مسئلے حل کرنے والو
تمہیں میرے جنوں سے کام کیا ہے
خبر خود موج طوفاں کو نہیں ہے
سفینے کا مرے انجام کیا ہے
بہ راہ راست ان کو مانگتا ہوں
تکلف کا دعا میں کام کیا ہے
حد پرواز جب سمٹی تو سمجھے
قفس کیا آشیاں کیا دام کیا ہے
صباؔ ترک محبت کر رہے ہو
محبت سے ضروری کام کیا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






