غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں

Poet: صبا اکبرآبادی By: ہارون, Multan

غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں
تیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیں

آپ کی راہ میں دنیا نظر آتی ہے مجھے
اک قدم اور جو بڑھ جاؤں تو دنیا بھی نہیں

آپ کیا سوچ کے غم اپنا عطا کرتے ہیں
ہمت دل تو بہ قدر غم دنیا بھی نہیں

تم تو بے مثل ہو توحید محبت کی قسم
تم سا کیا ہوگا جہاں میں کوئی مجھ سا بھی نہیں

حشر کی بھیڑ میں ایک ایک کا منہ تکتا ہوں
اس بھری بزم میں اک جاننے والا بھی نہیں

حسن نے دعوت نظارہ ہر اک رنگ سے دی
عشق نے آنکھ اٹھا کر کبھی دیکھا بھی نہیں

ایک تم ہو کہ تمناؤں کے دشمن ہی رہے
ایک میں ہوں مجھے احساس تمنا بھی نہیں

جزو دل بن کے سماتی ہے محبت دل میں
یہ وہ کانٹا ہے کہ ہے اور کھٹکتا بھی نہیں

یاد آتی ہے صباؔ بے وطنوں کی کس کو
مجھ کو یاران وطن سے کوئی شکوہ بھی نہیں

Rate it:
Views: 638
15 Feb, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL