اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک
Poet: صبا اکبرآبادی By: ساجد ہمید, Islamabadاجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک
مقدر میں ہے یا رب آرزوئے خود کشی کب تک
تڑپنے پر ہمارے آپ روکیں گے ہنسی کب تک
یہ ماتھے کی شکن کب تک یہ ابرو کی کجی کب تک
کرن پھوٹی افق پر آفتاب صبح محشر کی
سنائے جاؤ اپنی داستان زندگی کب تک
دیار عشق میں اک قلب سوزاں چھوڑ آئے تھے
جلائی تھی جو ہم نے شمع رستے میں جلی کب تک
جو تم پردہ اٹھا دیتے تو آنکھیں بند ہو جاتیں
تجلی سامنے آتی تو دنیا دیکھتی کب تک
تہ گرداب کی بھی فکر کر اے ڈوبنے والے
نظر آتی رہے گی ساحلوں کی روشنی کب تک
کبھی تو زندگی خود بھی علاج زندگی کرتی
اجل کرتی رہے درمان درد زندگی کب تک
وہ دن نزدیک ہیں جب آدمی شیطاں سے کھیلے گا
کھلونا بن کے شیطاں کا رہے گا آدمی کب تک
کبھی تو یہ فساد ذہن کی دیوار ٹوٹے گی
ارے آخر یہ فرق خواجگی و بندگی کب تک
دیار عشق میں پہچاننے والے نہیں ملتے
الٰہی میں رہوں اپنے وطن میں اجنبی کب تک
مخاطب کر کے اپنے دل کو کہنا ہو تو کچھ کہیے
صباؔ اس بے وفا کے آسرے پر شاعری کب تک
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






