چلتے رہے شان سے کبھی دغا نہیں کیا
Poet: اظہر صابری By: اظہر صابری, New Delhiچلتے رہے شان سے کبھی دغا نہیں کیا
وقت نے وقت سے کبھی جدا نہیں کیا
طبیعت ملا سہر سے سہر تک اس قدر
اسنے فقط وقت کا حق ادا نہیں کیا
ملنا تھا مقدّر مے عرش سے فرش تک
اشتیاق سے اسنے کبھی خود کو رضا نہیں کیا
وہ بہت عزیز ہیں میرے کیوں کرے ایسا فتنہ
با خدا اسنے مجھے کبھی جدا نہیں کیا
جوڑ دیا لوگوں نے مجھے بغاوت کی ڈور سے
ہر سمت یہی کہتے رہے کوئی خطا نہیں کیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






