چلو آج کہ دیتا ہوں
Poet: gul nabi khan By: gul nabi khan, Karachiہم خود سے بات کرتے ہیں ،ہمیں سن لیا کرو
کتنی عجیب سی ہو قسم سے، بس بھی کیا کرو
ہمارا ان سے ہر وقت بات کرںا یہ بے تابی نہیں تو کیا ہے
میسج دیر سے سین کرنا یہ بے ظاری نہیں تو کیا ہے
سچ بتاؤ نہ اس میں شرم کاہ ہونا نہ ہونا کیا ہوتا ہے
آپ دل لگاؤ محبت کرو یہ محرم ہونا نہ ہونا کیا ہوتا ہے
یہ اچانک ہوا ہے قسم سے میں نے کچھ نہیں کیا ہے
جو بھی ہے یہ پیار ویار یہ خود سے ہوا ہے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






