چلو اب یوں بھی آزماتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامکمل کاوش
چلو اب یوں بھی آزماتے ہیں
آپ کہہ دیں تو بھول جاتے ہیں
جسم مردہ ہوا تو یہ جانا
چین مر کر بھی ہم نہ پاتے ہیں
کوئی صورت کبھی نہ دیکھ سکیں
زخم آنکھوں کو اب لگاتے ہیں
اب تو آنکھیں بھی وا نہیں کرتے
ہاتھ پہلے بھی کب ملاتے ہیں
اپنی دنیا کا تم بھرم رکھنا
اپنی دنیا سے ہم تو جاتے ہیں
وشمہ مندر نما سے اس دل میں
بت بناتے ہیں پھر گراتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






