چلو اک نظم لکھتے ہیں۔۔۔۔۔
Poet: zeest.sun By: zeest.sun, u a eچلو اک نظم لکھتے ہیں
وہ ایسی نطم ہو
جس مین کسی کا
زکر ہی نہ ہو
کسی کی فکر ہی نہ ہو
کسی کی بے وفائ کا
کسی کی کج ادائ کا
کسی کے لوٹ آنے کا
کسی کے چھوڑجانے کا
وہ ایسی نطم ہو جس میں
کسی کی یاد ہی نہ ہو
کوئ فریاد ہی نہ ہو
نہ اس میں پھول ہی مہکیں
پرندے تک نہیں چہکیں
وہ ایسی نظم ہو جس میں
نہ بارش ہو نہ بادل ہو
نہ بھیگا بھیگا کاجل ہو
وہ ایسی نظم ہو جس میں
کسی کی آنکھ نہ ہو نم
نہ زیادہ غم ہوں نہ ہی کم
وہ ایسی نظم ہو
جس مہیں نہ شکوہ نہ شکائیت ہو
کوئ ایسی حکائیت ہو کہ
جس سے دل بہل جاۓ
قرار اس دل کو آجائے
مگر وہ نظم میں کیسے لکھوں
کوئ بتا دے ناں
وہ ایسی نظم ہاں جس میں
کسی کا زکر ہی نہ ہو
کسی کی فکر ہی نہ ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






