چلو تم کو بھی بتلادیں
Poet: سرور فرحان سرور By: Sarwar Farhan Sarwar, Karachiچلو تم کو بھی بتلا دیں
محبت ہم نہیں کرتے
کسی کا دم نہیں بھرتے
کسی کی یاد میں جل کر
یہ پلکیں نم نہیں کرتے
چلو تم کو بھی بتلا دیں
سبھی سے ہنس کے ملتے ہیں
سبھی کے ساتھ چلتے ہیں
مگر جب چاہ کی چاہ ہو
بہت محتاط چلتے ہیں
چلو تم کو بھی بتلا دیں
نئے یاروں کی سنگت میں
پرانے بھول جاتے ہیں
کوئی جو روٹھ جاتا ہے
منانا بھول جاتے ہیں
چلو تم کو بھی بتلا دیں
ہمارا ساتھ ہے جھوٹا
ہماری بات جھوٹی ہے
ہمارے لفظ میں شامل
ہر اک سوغات جھوٹی ہے
چلو تم کو بھی بتلا دیں
محبت، صرف دھوکہ ہے
سراب اک بے نشاں بیشک
مگر کس کو مفر اس سے
رہے خواہ بدگماں بیشک
چلو تم کو بھی بتلا دیں
یہاں ہر چیز جزوقتی
یہاں ہر چیز فانی ہے
فقط چند یوم کی الفت
کہ فانی زندگانی ہے
چلو تم کو بھی بتلا دیں
کوئی معشوق نہ عاشق
سب اپنی ذات میں گم ہیں
محبت اور نفرت سب
فقط توہمات میں گم ہیں
چلو تم کو بھی بتلا دیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






