چلو غم کا ترانہ لکھتے ہیں۔
Poet: اسد جھنڈیر۔۔۔ By: اسد جھنڈیر۔۔۔, MPKچلو غم کا ترانہ لکھتے ہیں
دکھ درد کا افسانہ لکھتے ہیں
ان بن زندگی زندگی نہیں اپنے
ھے خالی جیے جانا لکھتے ہیں
دل کا چھٹ جانا اندوہ غم سے
ھے خام خیالی جانا لکھتے ہیں
یہ جو انمول تبسم ھے یار ک
پیار کا قیمتی خزانہ لکھتے ہیں
دل کو لکھتے ہیں پاگل پیار میں
خود کو مجنوں دیوانہ لکھتے ہیں
لکھتے ہیں رقعہ کوئی انکے نام ک
جس میں اظہار محبت والہانہ لکھتے ہیں
سامنے آنے کی اسد میں جرعت نہیں
بس ھے جی کا گھبرانہ لکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






