چلو مانا کہ عاشق ہو
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiچلو مانا کہ عاشق ہو محبت آشنا کرنا
ملے جو عشق میں تم کو سہولت آشنا کرنا
چلی توقیر جائے گی نہیں عزت رہے گی پھر
کبھی تم بھول کر بھی مت دنایت آشنا کرنا
غربیوں کے نہیں حالات اچھے پوچھنا ان سے
ملے فرست غریبوں کی اعانت آشنا کرنا
کہاں سے آئی دولت کام کرتے ہو کیا صاحب
ملو جب تم امیروں سے حقیقت آشنا کرنا
نہیں مخلص یہاں کوئی سبھی ہیں لوگ مطلب کے
کسی کے آگے کم تر خود کو یوں مت آشنا کرنا
محبت میں ضروری گر سمجھتے ہو رفاقت کو
نہیں عزت رہے گی مت دباذت آشنا کرنا
غبارِ دل ہو کم جائے گا اظہارِ محبت سے
ملے شہزاد عجلت تو رفاقت آشنا کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






