چلے آؤ تم
Poet: DASTAGIR NAWAAZ. HYDERABAD(DECCAN) By: DASTAGIR NAWAAZ, Hyderabad(Deccan)چلے آو تم جہاں ہو کہیں رات ڈھل نہ جائے
کیا آج کا ہی وعدہ کہیں دن بدل نہ جائے
جہاں تم نظر اٹھاؤ وہاں دن نکل رہا ہے
نہ جھکاؤ تم نگاہیں کہیں رات ڈھل نہ جائے
ذرا اپنے دل سے پوچھو تمہیں کتنا چاہتا ہوں
غم؍ عشق کی بدولت میرا دل بدل نہ جائے
کہا نامہ بر نے مجھ سے ذرا احتیاط کیجیے
وہ تپش ہے خط میں تیرے کہیں ہاتھ جل نہ جائے
میں رہوں گا تم سے غافل میرے روبرو نہ ٓاو
تمہیں دیکھ کر کہیں پھر میرا دل مچل نہ جائے
یہی التجا ہے ان سے اے نواز میری ہر دم
کسی اور کے لبوں پر یہ مری غزل نہ جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







