چلے آؤ کہ ہم خاموش بیٹھے ہیں
Poet: محمد ہارون مغل By: محمد ہارون مغل, Karachiچلے آؤ کہ ہم خاموش بیٹھے ہیں
یہ چہچہاتے پرندے گھونسلوں میں لوٹ بیٹھے ہیں
ستمگر آ بھی جاؤ اب ہمیں کچھ بات کہنی ہے
تمہارے گال کو چھو کر ہمیں ہر رات سہنی ہے
اداسی چھاگئی ہر سو تمہارے راستے ہیں روشن
تمہارے آنسوؤں کی دی گئی سوغات سہنی ہے
تمہاری مسکراہٹ کو ابھی بھی یاد کرتے ہیں
تمہاری جھیل سی آنکھوں پے اب بھی ناز کرتے ہیں
چلے آؤ کہ کچھ کہنے سے پہلے ہی
منہ اپنا موڑ نہ لیں ہم یہ دنیا چھوڑ نہ دیں ہم
ستارے آسماں سے تیرے لیے توڑ لائیں گے
ہوائیں تو جو کہے تیرے لئے موڑ لائیں گے
کچھ ایسا نہیں کہتے ہمیں کچھ اور کہنا ہے
ہمیں تم سے محبت ہے بس اتنی بات کرنی ہے
تمہارے انتظار میں اب تو دیکھو رو دیا ہم نے
بلا کی آندھی میں جیون اپنا کھو دیا ہم نے
چلے آؤ کہ ہم خاموش بیٹھے ہیں
چلے آؤ کہ ہم خاموش بیٹھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






