چل آ اک ایسی نظم کہوں
Poet: تنویر سہیل By: تنویر سہیل , Rajanpurچل آ اک ایسی نظم کہوں جو لفظ کہوں وہ ہو جائے
بس اشک کہوں تو اک آنسو تیرے گورے گال" کو دھو جائے
میں "آ" لکھوں تو آ جائے میں "بیٹھ" لکھوں تو آ بیٹھے
میرے شانے" پر سر رکھے تو میں "نیند" کہوں تو سو جائے
میں کاغذ پر تیرے ہونٹ" لکھوں تیرے ہونٹوں پر مسکان آئے
میں "دل" لکھوں تو دل تھامے میں "گم" لکھوں دل کھو جائے
تیرے ہاتھ" بناوں پنسل سے پھر ہاتھ" پے تیرے ہاتھ رکھوں
کچھ الٹا سیدھا" فرض کروں کچھ سیدھا الٹا" ہو جائے
میں "آہ" لکھوں تو ہائے کرے بے چین لکھوں بے چین" ہو تو
پھر میں بے چین کا "ب" کاٹوں تجھے "چین" زرا سا ہو جائے
ابھی "ع" لکھوں تو سوچے مجھے پھر "ش" لکھوں تیری نیند اُڑے
جب "ق" لکھوں تجھے کچھ کچھ ہو میں "عشق" لکھوں تجھے ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






