چل آ اک ایسی نظم کہوں
Poet: تنویر سہیل By: تنویر سہیل , Rajanpurچل آ اک ایسی نظم کہوں جو لفظ کہوں وہ ہو جائے
بس اشک کہوں تو اک آنسو تیرے گورے گال" کو دھو جائے
میں "آ" لکھوں تو آ جائے میں "بیٹھ" لکھوں تو آ بیٹھے
میرے شانے" پر سر رکھے تو میں "نیند" کہوں تو سو جائے
میں کاغذ پر تیرے ہونٹ" لکھوں تیرے ہونٹوں پر مسکان آئے
میں "دل" لکھوں تو دل تھامے میں "گم" لکھوں دل کھو جائے
تیرے ہاتھ" بناوں پنسل سے پھر ہاتھ" پے تیرے ہاتھ رکھوں
کچھ الٹا سیدھا" فرض کروں کچھ سیدھا الٹا" ہو جائے
میں "آہ" لکھوں تو ہائے کرے بے چین لکھوں بے چین" ہو تو
پھر میں بے چین کا "ب" کاٹوں تجھے "چین" زرا سا ہو جائے
ابھی "ع" لکھوں تو سوچے مجھے پھر "ش" لکھوں تیری نیند اُڑے
جب "ق" لکھوں تجھے کچھ کچھ ہو میں "عشق" لکھوں تجھے ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






