چمن میں پھول کھلے ہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiچمن میں پھول کھلے ہیں بہار آنے سے
ہوا ہے اچھا یہ موسم خزاں کے جانے سے
یہ آزما ہی کبھی لینا یار عجلت میں
یہ پیار ہوتا نہیں کم یوں دور جانے سے
چلو یہ اچھا ہوا ختم ہوئی تنہائی
خوشی ہوئی ترے یار لوٹ آنے سے
رکھو نہ دل میں دبازت نہ آزماؤ ہمیں
چلا گیا تو نہ آؤں گا پھر بلانے سے
میں انتظار میں بیٹھا ہوں رات ہونے کو ہے
چلے ہی آؤ کوئی کرکے اب بہانے سے
یوں آتی لمس کی خوشبو ہے تیرے سے شہزاد
مری تو عید ہو جاتی ہے مسکرانے سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






