چمن کے سینہ فگاروں کا حال کیا ہو گا
Poet: Khalid Roomi By: khalid Roomi, Rawalpindi چمن کے سینہ فگاروں کا حال کیا ہو گا
تمھارے بعد نظاروں کا حال کیا ہو گا
بجھے جو شولے، شراروں کا حال کیا ہو گا
اٹھا جو پردہ ، بہاروں کا حال کیا ہو گا
کھلا ہے پیر مغاں کا در عطا واعظ
نہ سوچ ، بادہ گساروں کا حال کیا ہو گا
کبھی جو وصل مقدر میں ہو گیا تو پھر
شب فراق کے تاروں کا حال کیا ہو گا
نہیں ہیں کم جو کسی حشر کے عذاب سے کچھ
کسی کے ایسے اشاروں کا حال کیا ہو گا
قسم خدا کی ، جدائی میں جینا مشکل ہے
نہ پوچھ ، ہجر کے ماروں کا حال کیا ہو گا
فراق یار میں آنکھیں برستی ہیں جیسے
سمندروں کے کناروں کا حال کیا ہو گا
چمن کا روپ ہے صدقہ ترے جمال کا سب
یہ تیرے آگے نظاروں کا حال کیا ہو گا
ستم تو کھل کے ہی ڈھائے ہیں شہر پر تم نے
یہ بے گناہ پکاروں کا حال کیا ہو گا
مسافتوں کی خبر ہے نہ منزلوں کا پتہ
ان آنسوؤں کی قطاروں کا حال کیا ہوگا
ہمارے سر سے جو رومی ! چلے ہیں وحشت میں
اب ان لہو کے فواروں کا حال کیا ہو گا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






