چمکتے چاند تاروں کے جہاں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, WALESچمکتے چاند تاروں کے جہاں میں لے گئیں آنکھیں
تجھے مل کر لگا کہ کہکشاں میں لے گئیں آنکھیں
چھلکتی آنکھ دل کی کہہ رہی ہر بات ہو جیسے
نظر ملتے ہی ہم کو یوں لگا کہ رات ہو جیسے
نہ جانے کیوں میرے احساس میں محشر ہوا یکدم
خمار شب میں بہتے نور کی برسات ہو جیسے
سمندر کی طرح آبِ رواں میں لے گئیں آنکھیں
تجھے مل کر لگا کہ کہکشاں میں لے گئیں آنکھیں
تیری مخمور آنکھوں نے نہ جانے کیا کیا ہم دم
جو دل پہلو میں ہوتا تھا تمہارا ہو گیا ہم دم
کسی نے شبنمی پھولوں کو جیسے پیار سے چوما
تیری نظروں کی کرنوں نے مجھے ایسے چھوا ہم دم
عجب سی کشمکش کے درمیاں میں لے گئیں آنکھیں
تجھے مل کر لگا کہ کہکشاں میں لے گئیں آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






