چَند پَند (کسی کی ہم کو نصیحت)
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiیوں فرمانے لگا اِک مردِ دانا
اگر چاہتے ہو دُشمن کو ہرانا
گِرہ سے باندہ لو یہ پَند میرے
نہ ہاروگے کبھی فَرزَند میرے
بُلند کہتا ہے کوئی یا تُمہیں پَست
نہ لو ٹینشن، رہو بس حال میں مَست
ہر اِک کی رائے کب ہوتی ہے یکساں؟
تَفاوُت سے ہے پُر مخلُوقِ یزداں
کئی اَقسام کے ہوتے ہیں نَقّاد
کوئی مُنصف تو کوئی بہرِ بے داد
جو ہو تَنقیِد میں کوئی سَچائی
غَلَط کو ٹھِیک کرنے میں بھلائی
جو کہ تَنقیِد کرتا ہو حَسَد سے
نہ دو جواب اُس کو فعلِ بد سے
خُرد گر کریں تنقید تُم پر
تو ہے لازم صبر کی دیِد تُم پر
بَسَر و چَشم دِکھلاؤ زرا بَسط
بُلند ہو جاؤگے تُم ہو کے کُچھ پَست
جو ہم رُتبہ بنے نَقّاد یکدم
نہ ہونا اُس پہ بھی فورا“ بَرہم
کوئی مَمدُوح لگائے اُلٹی گر جَست
تو تُم اَپناؤ فورا“ صِراط اُلوَسط
کوئی بُزرگ رُتبہ گر کُچھ بولے
تَجربے کی بناء پہ لَب کو کھولے
بہت مُمکن ہے، جانو کُچھ نیا تُم
نہ ہو ایسا، کرو پھر بھی حیاء تُم
پِیرانہ سالی کو حاصل ہے مِیری
نہیں اچھی کسی پہ خُردہ گِیری
بنالو اُس کے آگے خُود کو ہی پَست
خطائے بُزرَگاں، گِرفتَن خطا است
جہاں تک کام چل پائے صُلَح سے
وہاں تک حِذر رَکھ رَدّ و قدَح سے
سَکوُنِ قلب گر چاہتا ہے بھائی
نہ کر ہرگِز کسی سے بھی لَڑائی
اگر ہو جائے ناگُزیر لڑنا
فَقَط حق بات کی خاطر جھَگڑنا
نہ کرنا زیادتی ہرگز کِسُو سے
خُدا محفُوظ رکھے گا عدُو سے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






