چپکے سے پاس ہمارے تُم آ جاؤ
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Attockفُرصت کے لمحوں میں جب یاد میری آتی ہوگی
دل مچلتا ہوگا،آنکھیں بھی بھر آتی ہونگی
دسمبر کی کالی راتیں جب جب ڈستی ہونگی
تب میری یادیں سہارا تجھے دیتی ہونگی
آہوں کا اک طوفاں پھر برپا ہوتا ہوگا
اور پاس تمھارے نہ کوئی ہوتا ہوگا
ٹھٹھرتی راتوں میں دل تمھارا تڑپتا ہوگا
سسکیوں کی لڑی میں نام میرا بنتا ہوگا
چاہئے تمھیں میری بانہوں کا سہارا اب
نہیں اس کے سوا کوئی بھی چارا اب
چپکے سے پاس ہمارے تُم آ جاؤ
خود جلو نہ ہمیں اب اور جلاؤ
کوئی پوچھے بھی تو نہ کچھ بتلاؤ
جاوید کی بانہوں میں بس تُم آجاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







