چھایا رہتا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreکبھی کبھی تخیلات پہ یوں اندھیرا چھایا رہتا ہے
کوئی منظر واضح نہیں ہوتا کہرا چھایا رہتا ہے
تکرار الفاظ موضوعات کا راستہ روک لیتی ہے
جیسے کہ درعنوان پہ کوئی پہرہ چھایا رہتا ہے
جذبہ دل اور حسن نظر جب جب باہم ملتے ہیں
پلکوں تلے رنگ و نور کا سہرا چھایا رہتا ہے
جب راہ شوق میں ہجر وصل اور وصل ہجر ہو جاتا ہے
تب روح و دل پر لطف و کرم بھی گہرا چھا یا رہتا ہے
یہی تو عقل اور عشق میں نمایاں امتیاز ہے عظمٰی
عقل ساکن، عشق پہ تحریک کا لہرا چھایا رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






