چھوڑ دی ہے تمام تر اُلفت
Poet: azharm By: azharm, dohaچھوڑ دی ہے تمام تر اُلفت
مانگتی پھر رہی تھی سر اُلفت
آرزو ایک گھر بنانا تھا
توڑتی بھی تو ایک گھر اُلفت
زندگی کو سمجھ لیا سب نے
اک معمہ رہی مگر اُلفت
میری آنکھوں میں خواب اُترا ہے
کوچہ کوچہ، نگر نگر اُلفت
الفتوں کا شمار کیا کرنا
جس قدر جی میں آئے کر اُلفت
آرزوئیں اُڑان بھر پائیں
تُو لگا دے جو بال و پر اُلفت
زندگی ہو جو چار دیواری
اُس کا اظہر ہو بام و در اُلفت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






