چھوڑ کر چلے گئے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanبیچ دوراہے میں لا کر اکیلا چھوڑ کر چلے گئے
وعدے ساتھ رہنے کے کیے اور نبھائے بغیر چلے گئے
تم نے مجھے سمجھا ہی نہیں اس لئیے اچانک
بے وفائی کا داغ لگا کر روتے ہوئے چلے گئے
کتنی مشکلوں سے پایا تھا تمہیں دنیا کی بھیڑ سے
اپنی ہستی کو بھلا بیٹھے تمہیں دل میں بسا بیٹھے
زمانے کے الزام بھی سہے تیرے لئے خندہ پیشانی سے
اتنے کرب اُٹھائے جس کے لئے وہ بھی الزام لگائے چلے گئے
اپنی دلکش کشش سے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اُس نے
کئی بار ہٹایا قدموں کو تیری طرف پھر بھی چل دیے
تیرے ساتھ کی خوشگواری سے کیسا مہک سا جاتا میں
میرے ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ کا رُخ بدل کر چلے گئے
مجھے چاہت کا دھوکا دیا میرے ارمانوں سے کھیلتے رہے
پیار کے سہانے خواب دیے مہتاب کہہ کر پکارتے رہے
میرے شدت محبت پر شک تھا کیوں اتنی دور چلتے رہے
میں کتنا قرار میں تھا مجھے بے چین کر کے چلے گئے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






