چہرا
Poet: Ali Shaikh Sagar By: Ali Shaikh Sagar, karachiاٹھ کے جھکا تھا وہ جھکایا ہوا چہرا
ہمیں بے نقاب کر چلا تھا، وہ اشکوں بھرا چہرا
کیا کہیں اس رات کی مدہوشی میں
کیسا ابھرا تھا،وہ ابھرتا ہوا چہرا
تنہائی میںسر راہ چپکے سے نکل کر
اتر آتا ہے لبوں پہ، وہ چھپایا ہوا چہرا
جب سے ملا ہے وہ مسکراتی اداؤں کے ساتھ
قسم جانو نگاہوں میں بسا ہے، وہ کھلتا ہوا چہرا
تاریکی میں دیکھو تو بدل جاتا ہے
لگتا ہے روشن،وہ چاند سا چہرا
سربزم مجھے آکہ ستاتا ہے ہمیشہ
وہ روپ کہ،زندگی پہ چھایا ہوا چہرا
کتنے ہی حسن والوں میں ڈھونڈا ہے ساگر
لگتا ہے لایا تھا کہیں سے،وہ چرایا ہوا چہرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






