چہرہ گلاب کا نقاب سے ہٹ گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاچیرے پہ نقاب کر کے
سمٹ کر وہ نکلی تھی گھر سے
چادر میں لپٹی تھی علم کی تلاش میں
راہِ حق پر نکلی تھی روشنی اجالے سے
اپنے من تن کو چھپائ تھی
آندھی اور اندھیرے سے
وہ تو بہت ڈرتی تھی
وہ نازک خیال نازک طبح
دلربا لہجے میں بات کرتی تھی
اک خوفناک چیخ نے
لرزادیا اس کا بدن
ٹوٹ گئیں چوڑیاں بکھر گئیں چزیاں
خون میں نہا گئیں
بکھر کر رھ گئ
بکھری پڑی تھیں ہر طرف
چہرہ گلاب کا نقاب سے ہٹ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






