چہرہ
Poet: By: Nazir Yaad, Mیاد آیا مجھے شدت سے کسی کا چہرہ
میں نے دیکھا جو کبھی غور سے اپنا چہرہ
یہ الگ بات کہ جھونکے نے سعادت بخشی
لا کھ کم ظرف نے آنچل میں چھپایا چہرہ
ہاتھ پھیلا کے میرے سامنے سکے کے لئے
لے گیا مجھ سے میرے عمر وہ میلا چہرہ
آخر اکنائے گا اک روز اکیلے پن سے
ادھ کھلی کھڑکی سے تکتا ہوا آدھا چہرہ
جانتے تھے کہ مکمل نہیں دونوں بھر بھی
کے کے پھرتا رہا ہر ایک ادھورا چہرہ
حسن در اصل تغیر میں ہی پنہاں ہے نذیر
اس لئے میں نے بھی چہرے پہ سجایا چہرہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







